بھارت ظلم و ستم کے 1095 دن۔۔۔از نجیب الغفورخان

بھارت نے5 اگست 2019 کو غیرقانونی اور یکطرفہ طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا اور آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کو معطل کرکے کشمیر پر اپنے غیر قانونی فوجی قبضے کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی۔بھارت کے ڈومیسائل اور ملکیتی قوانین مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے اور کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کیلئے تبدیل کیے گئے، کشمیری عوام بھارتی حکومت کے ظالمانہ اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔ بھارتی حکومت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا، حریت کانفرنس کی پوری قیادت اور آزادی پسند کارکنوں کو فرضی مقدمات میں عقوبت خانوں اور گھروں میں نظربند کیا گیا ہے،جس کے بعد وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے غیر مقامی افراد کو زمین خریدنے کی اجازت دی گئی تھی،بھارت نے آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کو معطل کرکے کشمیر پر اپنے غیر قانونی فوجی قبضے کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی۔بھارت کے ڈومیسائل اور ملکیتی قوانین مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے اور کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کیلئے تبدیل کیے گئے، کشمیری عوام بھارتی حکومت کے ظالمانہ اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔ نریندر مودی کی حکومت نے وزیر داخلہ امیت شا کی سر براہی میں 5 اگست 2019 کو ایک کروڑ سے زائد آبادی کا حامل یہ خطہ متنازع طور پر تقسیم کرکے رکھ دیا۔اس اقدام مقبوضہ کشمیر کھلی جیل میں تبدیل ہو گیاتھا جہاں تعلیمی ادارے مسلسل بند ہیں۔ غذائی اجناس کی صورت حال سے دنیا ناواقف ہے، ہسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں بلکہ وہاں پر بھارتی قابض فورسز کا بسیرا ہے۔ کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر دنیا کے واحد ایسے خطے یں تبدیل ہو گیا جہاں انسان اپنے حقوق کے بغیر زندہ ہیں۔بھارت نے اظہار رائے کی آزادی سمیت کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق غضب کررکھے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج اور پولیس کی قتل و غارت گری، ماورائے عدالت قتل، غیرقانونی حراست، تشدد، پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال، املاک کو نقصان پہنچانا اور خواتین کی بے حرمتی کرنا معمول بن گیا ہے۔ان سب کے ساتھ بھارت کے فاشسٹ سیکورٹی ادارے نہتے،معصوم اور بے قصور کشمیریوں کو بے دردی سے قتل کررہے ہیں۔ وادی میں کاروبار،مارکیٹس، سکولز،انٹرنیٹ پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر تمام بنیادی سہولیات کو بند کر رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن روز کا معمول بن چکا ہے،مگر بھارت کا ظلم و جبرنہ رک سکا۔ مقبوضہ کشمیر میں 5اگست 2019ء سے مسلسل مواصلاتی روابط منقطع ہیں۔ انٹرنیت، موبائل فون اور دیگر زمینی مواصلاتی روابطے درہم برہم ہیں۔ بازار بند ہیں بیماروں کے علاج معالجے اور ان کی طبی معاونت کا کوئی ذریعہ نہیں۔ کشمیری عوام اپنے حق خود اردایت کے حصول کے لیے کئی دہائیوں سے جدو جہد کررہے ہیں اور اس دوران اب تک ایک لاکھ سے زائدافراد کو شہید کیا جا چکا ہے۔گذشتہ سال شائع ہونے والی دی فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر کی رپور ٹ” جموں و کشمیر انسانی حقوق پر لاک ڈاؤنز کے اثرات” کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ دو سال سے جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے مقامی معیشت کو تقریبا 40 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ فیصلے کی وجہ سے کشمیری عوام ہندوستان اور اس میں رہنے والے عوام سے مکمل طور پر بیگانہ ہوگئے ہیں۔ وادی کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کیخلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے کالے قانون ”یو اے پی اے ” کے تحت مقدمے درج کئے جاتے ہیں۔ اس میں مقبوضہ جموں و کشمیر حکومت کی نئی میڈیا پالیسی کو ‘آزاد میڈیا’ اور ‘اظہار رائے کی آزادی’ پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔جموں و کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین کے نفاذ، جن کے تحت غیر مقامی شہری بھی یہاں رہائش اختیار کر سکتے ہیں، نے اس یونین ٹریٹری میں بے روزگاری بڑھنے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ وادی کشمیر میں جاری مسلسل لاک ڈاؤن کے تعلیمی شعبے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور سست رفتار 2G موبائل انٹرنیٹ سروس کے باعث آن لائن کلاسزکا انعقاد ناممکن ہوگیا ہے۔بھارتی فوجی کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے حراست میں لیکر بعد ازاں مجاہدین یا ان کے ساتھی قراردیتے ہوئے جعلی مقابلوں میں شہید کردیتے ہیں۔ادھر بھارتی حکام نے 5 اگست سے قبل وادی کشمیر میں مزید پابندیاں عائد کردی ہیں 5اگست کو آزاد کشمیر پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کا شکار معصوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر یوم استحصال منا رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں جموں و کشمیر لبریشن سیل نے بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے خصوصی پروگرامات ترتیب دئیے ہیں۔ جب کہ جموں و کشمیر لبریشن کمیشن کے سوشل میڈیا یونٹ کے زیراہتمام خصوصی کیمپین بھی شروع کی گئی ہے۔ مگر 5اگست کے بعد اس میں شدت آئی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق بھارتی فوج نے جنوری 1989سے اب تک 96ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جن میں سے 7ہزار246کو حراست کے دوران شہید کیاگیا۔بھارتی فوجیوں نے 5اگست 2019کے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے بعد سے 121کشمیریوں کو حراست کے دوران شہید کیا ہے۔واضح رہے کہ بھارت کشمیری عوام کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال، ماورائے عدالت قتل، ظلم وتشدد، جبری گمشدگیوں، کشمیری قیادت اور نوجوانوں کی قید و بند کی صعوبتیں اور دیگر ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں ناکام ہو چکا ہے اور وہ مستقبل میں بھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہو گا۔کچھ عرصہ قبل پاکستان نے ایک ڈوزئیر کے ذر یعے دنیا کو مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی قابض افواج کی طرف سے ہونے والے سنگین جرائم اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے ناقابل تردید ثبوت فراہم کیے ہیں۔سیاسی، مذہبی اور سماجی کارکنوں سمیت سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ غاصب فوج نے کئی گھروں کو مسمار کیااورجعلی سرچ آپریشن کیے۔انتہا پسند بھارت کا مظلوم کشمیریوں پر ظلم و جبر جاری ہے۔ گزشتہ ماہ جولائی بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشتگردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 06کشمیریوں کو شہید کیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاستی دہشتگردی کا شکار ہونے والوں میں سے دو نوجوانوں کو دو جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا ہے۔بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے جولائی کے مہینے میں 138 محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران 38 شہریوں کو گرفتار کیا جن میں زیادہ تر نوجوان، سیاسی کارکن اور طلبا ء شامل تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کو کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا۔ فوجیوں نے گزشتہ ماہ محاصرے اور تلاشی کارروائیوں کے دوران دو نوجوانوں کو زخمی جبکہ ایک مکان کو تباہ کیا ہے۔ کے دوران قابض بھارتی فوج نے پیلٹ گنوں، گولیوں اور آنسوگیس کی شیلنگ سے درجنوں پُرامن کشمیریوں کو زخمی کیا۔دوسری جانب حریت رہنماؤں سمیت مقبوضہ وادی کے سینکڑوں افراد کو گرفتار کیاگیا۔ قابض بھارتی فورسز نے محاصروں اور سرچ آپریشن کے دوران درجنوں مکانات اور کاروباری مراکز بھی تباہ بھی تباہ کیے۔بھارتی حکومت نے عید الاضحی کے موقع پر بھی اپنی روایات نہ بدلیں اور مقبوضہ وادی کے مسلمانوں کو مساجد میں عید کی نماز ادا نہ کرنے دی۔ عید کے دوسرے دن بھی بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں گلیوں اور بازاروں میں کرفیو کا سماں تھا۔دوسری جانب مودی سرکار نے بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا ہوا ہے۔ مقبوضہ وادی میں ہائی سپیڈ انٹرنیٹ سروس کو معطل کئے 2سال مکمل ہو چکے ہیں۔ بھارت مظلوم کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے جن میں سے ایک انٹرنیٹ سروس معطل کرنا بھی ہے۔انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں اور ہندوستانی بربریت کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت میں کمی نہیں آئی۔اور وہ قربانیوں کی داستان رقم کرتے ہوئے نہیں گھبرا رہے۔ اب عالمی برادری کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا ادراک کرے،اور انسانی حقوق کے کنونشنز کے تحت بھارت کو جوابدہ بنائے۔نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے بھرپورمہم چلائیں اور بھارت بربریت کو عالمی سطع پر بے نقاب کریں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں