حریت کانفرنس کا رائیلٹی کا مطالبہ جائز ہے۔۔۔۔۔۔ سید نذیر گیلانی

بھارتی زیر انتظام کشمیر (مقبوضہ) میں 1990 میں شروع کی گئی ملی ٹینسی کی تحریک میں جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر کا تکڑا overwhelming کردار رہا۔

یہاں کی مارا ماری میں بھی اس کا اہم رول رہا۔ لمبی لمبی گاڑیاں حاصل کرنے اور پولیٹیکل ٹورازم کے مزے لوٹنے میں بھی ان کا بڑا کلیم رہا۔ ایک نسل کے قبرستان میں پہنچانے کے بعد، اور کشمیر میں عام انسان کو بے بس کرانے کی زیادہ ذمہ داری جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے قائیدین پر عائد ہوتی ہے۔

اس جماعت کی گردن پر ایک نسل کا خون ہے۔ بچے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی گولی اور اپنی گولی کا شکار ہوتے رہے۔ معاوضہ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے درمیان دار لوٹتے رہے۔ ایک نسل کے قتل کا قصاص جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے کچھ ذمہ داران کے ذمہ ہے۔ ان کی پہچان کوئی مشکل کام نہیں۔ آپ مقامی کسی عام آدمی سے ان کی 1990 کی قباء کا اور آج کی ٹور کے بارے میں پوچھیں، جواب مل جائے گا۔

جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر مصائب، مشکلات اور فاقہ کشی کا شکار رہی۔ بدنامی کے سوا کچھ حصے میں نہیں۔ میرا جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے ساتھ زمانہ طالب علمی ہی سے interaction رہا ہے۔یہ سادھ اور مال وجائیداد قربان کرنے والے لوگ ہیں۔ افسوس کہ ان کی سادگی کو جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے سیاست کے لنڈا بازار میں بیچ دیا۔

آزاد کشمیر میں جماعت کی قیادت ساتھ ساتھ اپنی تجارت کو بڑھاوا دیتی رہی۔ اب کانفرنسز کا اہتمام ہی باقی بچا ۔ اسلام آباد کی کانفرنس میں کچھ بھی انٹرنیشنل نظر نہیں آیا۔ وہی چوہدری صاحب کی دھوتی اور چار مرید نظر آئے۔

اس کشمیر کانفرنس میں حریت کانفرنس کے کنوینر نے بھی خطاب کیا۔ جن کے پاس پاکستان یا آزاد کشمیر میں جتنا ہے، وہ اور ان کے ساتھی اس سے کئی گناء زیادہ مقبوضہ کشمیر میں چھوڑ کر آئے ہیں۔ حریت کانفرنس کے کنوینر محترم محمود احمد ساغر نے جو اپنے مختصر خطاب میں کہا، ہم اس کی تائید کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ نیلم جہلم کے پانی کی رائلٹی پر پہلا حق مقبوضہ کشمیر کا ہے۔ یہ پانی انڈیا اور پاکستان کے لئے ٹرسٹ پراپرٹی Trust Property ہے. جموں وکشمیر کے تمام قدرتی وسائل Natural Resources ایک ٹرسٹ پراپرٹی ہیں۔

لہذا اگر حکومت پاکستان مالی مشکلات میں ہے، تو وہ اپنے خزانے سے، حالات بہتر ہونے تک فی الحال ہمیں کچھ نہ دے۔ لیکن جہلم نیلم دریاؤں کی Royalty حق خودارادیت کے لئے مختص کرے۔ اس رائلٹی کا آزاد کشمیر کے 52 وزراء اور مشیروں پر ایک quid pro quo کو تحفظ دینے پر خرچ کرنا درست نہیں۔ یہ یو این ٹمپلیٹ کی صریح خلاف ورزی اور ایک جرم ہے۔ اس رقم کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل (2) 1 اور UN template کے تحت کام پر یعنی کشمیریوں کے
RIGHTS, DIGNITY, SECURITY AND SELF-DETERMINATION
پر خرچ کیا جائے۔

دوسری آمدنی پاکستان میں موجود کشمیر پراپرٹیز سے حاصل شدہ آمدنیاں ہیں۔ ان پراپرٹیز کا حوالہ نومبر 1959 سے اقوام متحدہ میں موجود ہے۔ یہ زمین اور جائیدادیں پاکستان کے چاروں صوبوں میں موجود ہیں۔ ان زمینوں اور جائیدادوں کی بہتر دیکھ بھال کی پیش نظر اور For want of care حکومت پاکستان نے ان کا انتظام فروری 1961 سے آزاد کشمیر حکومت سے، اپنے اختیار میں لے لیا ہے۔ یہ آمدنیاں ایک خاص اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہیں۔

حکومت آزاد کشمیر ان پراپرٹیز کی دیکھ بھال نہیں کر سکی، یہ حق خودارادیت کی تحریک کا کیا، خیال رکھے گی۔ البتہ 1961 سے لے کر آج تک 63 سال کی آمدنی کی کوئی خبر نہیں۔ یہ جمع شدہ رقم بھی حق خودارادیت پر ایک transparent طریقے سے خرچ کی جائے اور جن امور سے غفلت برتنے کی طرف ساغر صاحب نے توجہ دلائی ہے، ان پر ایک قانونی انتظام کے تحت خرچ کی جائے۔

اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل مارچ 1959 میں سرینگر اور UNCIP کا ڈیلیگیش ستمبر 1948 میں آزاد کشمیر گیا۔ وہ یہاں کی political and economic صورتحال کا جائزہ لینے آئے تھے۔

یہ زمین اور جائیدادیں ریاست جموں کی ملکیت ہیں اور ان کی حیثیت sovereign ہے۔ یہ جائیدادیں ہندوستان میں بھی موجود ہیں۔ ان پر انڈیا اور پاکستان کا کوئی اختیار نہیں۔

حریت کانفرنس اور 1947 سے لے کر اب تک حق خودارادیت کی جدوجہد میں نکلنے والوں کے حکومت آزاد کشمیر پر عدم اعتماد کے نتائج نقصان دہ ہیں ۔ منگلا ڈیم کا معاملہ بھی اکتوبر 1957 سے اقوام متحدہ کے ریکارڈ پر موجود ہے۔ لیکن کشمیریوں کی inclusiveness ثابت کئے بغیر دنیا ہماری مدد نہیں کرے گی۔

پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے ہماری گزارش ہے کہ وہ کشمیر کے انتظام میں interest لینے سے قبل کشمیریات کا مطالعہ کریں۔ UN template کی تیاری میں جنگ عظیم دوئیم جیتنے والے 4 بڑے جنرلز نے حصہ ڈالا ہے۔ کشمیر کیس ہر ایک کی چائے کی پیالی نہیں۔

حریت کانفرنس کے کنوینر محمود احمد ساغر صاحب نے جن امور کو highlight کیا ہے ان کی طرف فوری توجہ دیں۔ اپنی کشمیر کانسٹیچونسی کو خراب نہ کریں۔ کشمیریوں میں اسناد تقسیم کرنے اور ان کی ACR لکھنے کی کاروائی بند کریں۔

یہ سرکاری کشمیری نہ خود پل صراط پار کر سکتے ہیں اور نہ کرا سکتے ہیں۔ آپ کے لگائے Roller Skates ان کی رفتار بڑھا نہیں سکتے۔ آپ کی حکمت نے CW1, CW2 اور John ہی پیدا کئے۔

ساغر صاحب نے حوصلہ پیدا کرنے کا ذکر کیا ہے۔ اس میں دیانتداری اور انکساری بھی شامل کریں۔ خدا کے خوف اور قبر کے عذاب سے ڈریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کی یو این ٹمپلیٹ کی تشریح میں، آپ پر فرد جرم عائد ہو۔ پاکستان مسئلہ کشمیر میں فریق ہے۔ لیکن کسی فریق یا وکیل کو کشمیر کیس خراب کرنے کی اجازت نہیں۔ انڈیا اور پاکستان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ:
“Security Council has a positive duty and unless the parties are able to agree upon some other solution, the solution which was recommended by the Security Council should prevail.”

یہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ
“….that basis is consistent with the principles of the Charter of the United Nations.”

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں