ریاست میں ابھرتی بنیادی انسانی حقوق کی تحریک….. انجینیئر شکیل احمد راولاکوٹ

معزز قارین گزشتہ چند ماہ قبل راولاکوٹ کی مردم خیز اور غازیوں,مجاہدوں اور شہیدوں کی سرزمین سے اٹھنے والی بنیادی عوامی حقوق کی تحریک دیکھتے ہی دیکھتے پوری ریاست میں پھیل چکی ہے اور چند ہی ماہ کے قلیل عرصہ میں بنیادی انسانی حقوق بارے تحریک کا پیغام,اہداف, مقاصد اور تحریک کی بازگشت پوری ریاست کے بزرگوں,نوجوانوں,خواتین اور بچوں تک پہنچ گئی۔اس عوامی حقوق کی تحریک کو ایک انفرادیت اور اعزاز حاصل ہے کہ آزاد ریاست جموں و کشمیر اور پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں بنیادی انسانی حقوق بارے شروع کی جانے اور اٹھنے والی تحریکوں میں یہ واحد تحریک ہے جس تحریک کو عام آدمی کی تحریک کہا جا سکتا ہے۔ماسوائے راوالاکوٹ سے ایک ممبر قانون ساز اسمبلی کے یہ واحد تحریک ہے جسے کسی بھی حکومتی و اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے منتخب ممبران قانون ساز اسمبلی کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے۔یہ خالصتا عام آدمی کی تحریک ہے۔یہ ریاست کے محنت کشوں اور مزدوروں کی تحریک ہے, یہ ریاست کے تاجروں کی تحریک ہے, یہ ریاست کے ٹرانسپورٹروں کی تحریک ہے,یہ ریاست کے وکلاء کی تحریک ہے, یہ ریاست کے سبھی باشعور اور متحرک سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی تحریک ہے,اسے ریاست کی آزادی پسند اور قوم پرست جماعتوں کے حامی نوجوانوں کی اکثریت کی بھی حمایت حاصل ہے۔اس تحریک کو ریاست کی ماؤں,بہنوں,بچوں اور بزرگوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔اس تحریک کو ریاست کے طلبہ و طالبات کی بھی حمایت حاصل ہے۔گزشتہ چار سے پانچ ماہ کے طویل عرصہ میں جس منظم ,سنجیدہ اور آرگنائز طریقے سے اس تحریک کو جس کامیابی کے ساتھ یہاں تک پہنچایا گیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔قطعہ نظر اس کے کہ اس تحریک میں سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت قوم پرست جماعتوں کی اکثریت کو لے کر مختلف نظریات, سوچ اور فکر سے تعلق رکھنے والے احباب شامل ہیں۔مختلف سوچ ,فکر اور نظریات کے حامل لوگوں پر مشتمل جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا یہ حسین امتزاج اور گلدستہ جس سنجیدگی,مستقل مزاجی, استقامت,کامیابی اور آرگنائز طریقے سے اس تحریک کو لے کر آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔مستقبل قریب و بعید میں اس کی بھی نظیر نہیں ملتی۔بلا شبہ ایک دوسرے سے نظریاتی,سیاسی, فکری اور مسلکی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام اور ایک دوسرے کے نظریے,سوچ اور فکر سے تصادم اور اختلاف رائے رکھنے کے باوجود وسیع تر قومی و عوامی مفاد کو اپنے ذاتی غرض اور مفاد پر ترجیح دیتے ہوئے جس کامیابی کے ساتھ یہ تحریک اگے کی طرف بڑھ رہی ہے اس کا کریڈٹ اور اعزاز جہاں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران و ذمہ داران کو جاتا ہے وہیں پر ریاستی عوام بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جو سیسہ پلائی ہوئی دیوار اور چٹان کی طرح پوری قوت,طاقت, جرات ,جواں مردی اور حوصلہ کے ساتھ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران کی پشت پر کھڑے ہیں اور قریہ قریہ,قصبہ قصبہ اور اپنی اپنی وارڈز کی حد تک ریاست کی باشعور پڑھی لکھی اور غازیوں, مجاہدوں اور شہیدوں کی وارث عوام نہ صرف دھرنے دیے بیٹھی ہے بلکہ بنیادی عوامی حقوق کی اس تحریک کا پیغام اپنی اپنی وارڈز کی سطح سے لے کر پوری ریاست میں پھیلا رہے ہیں جو اس عوامی حقوق کی تحریک کی انفرادیت بھی ہے اور کامیابی کی ضمانت بھی۔
معزز قارئین یاد رہے کہ کچھ عرصہ سے چند شر پسند عناصر اور سہولت کار عوامی صفوں میں داخل ہو چکے ہیں جو آپ کے اور ہمارے قائدین اور تاریخ و تحریک سے وابستہ سیاسی شخصیات کو موقع بہ موقع حدف تنقید بناتے ہوئے تحریک کے ذمہ داران اور عوام کو تقسیم کرنے کی مظلوم سازش میں سہولت کاری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ہمیں ایسے سازشی عناصر کی سازشوں اور سازشوں کے پس پردہ عوامی حقوق کی تحریک کو ناکام کرنے اور تقسیم کرنے والے عناصر پر گہری نظر رکھنی ہوگی اور سوشل میڈیا اور دیگر سماجی رابطوں کے ذرائعوں میں ایسی پوسٹوں کو نظر انداز کرتے ہوئے برداشت, سنجیدگی اور آرگنائز طریقے سے آگے کی طرف بڑھنا ہوگا۔
معزز قارئین آپ عوام کی اس عوامی حقوق کی تحریک جس کے بنیادی مقاصد میں آٹے پر سبسڈی کی بحالی,بجلی کی پیداواری نرخوں کے مطابق ترسیل ,مراعات یافتہ طبقہ سمیت حکمرانوں اور اشرافیہ کی عیاشیوں اور اخراجات میں کمی جیسے مطالبات شامل ہیں۔ان بنیادی عوامی حقوق میں عوام کی سنجیدگی,دلچسپی اور شعور نے حکومتی ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔نہ صرف ریاستی حکمرانوں اور اشرافیہ کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں بلکہ آپ عوام نے جہاں حکمرانوں کے ایوانوں کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رکھ دیا ہے وہیں پر پاکستانی عوام کو بھی دو ٹوک اور واضح پیغام پہنچایا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کرپٹ,بددیانت اور ناہل حکمران اور اشرافیہ کبھی بھی تھالی میں رکھ کر نہیں دیتے بلکہ اپنے بنیادی حقوق چھینے پڑتے ہیں۔ریاستی عوام کا یہ پیغام جہاں پاکستانی عوام کو بھی متحرک کر چکا ہے وہیں پر ریاستی عوام کی طرف سے پاکستانی حکمرانوں اور پالیسی اداروں کو بھی ایک واضح اور دو ٹوک پیغام پہنچ چکا ہے کے ریاستی عوام اپنے بنیادی حقوق کے حصول سمیت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پوری ریاست جموں و کشمیر کے ہر دو اطراف بسنے والے ڈیڑھ کروڑ سے زائد عوام کو ان کی بنیادی حق حق رائے دہی سے پیچھے کسی بھی آپشن تک محدود نہیں رکھ سکتی۔ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاستی عوام نے ہی استصواب رائے کے ذریعے کرنا ہے۔اگر ریاست جموں و کشمیر کی عوام کے بنیادی حق استصواب رائے پر شب خون مارا گیا تو اس کے سنگین اور بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔اس عوامی حقوق کی تحریک کے نتیجہ میں مستقبل میں ریاست جموں کشمیر کے جنرل ایکشن پر بھی اس کے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔مجھے امید ہے کہ مستقبل میں ریاستی عوام اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے سے قبل حکومت پاکستان کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ارباب اقتدار و اختیار اور برسر اقتدار سیاسی جماعتوں کو دیکھتے ہوئے اپنے سیاسی قبلہ اور رخ کا تعین نہیں کریں گے بلکہ مستقبل میں ریاستی باشعور اور پڑھا لکھا نوجوان اپنے اوپر لگے اس سیاہ دھبے کو دھونے میں کردار ادا کرے گا کہ ریاستی عوام جنرل الیکشن میں پاکستانی سیاسی جماعتوں کے اقتدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ہمیں اس امر کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ہم آمدہ جنرل الیکشن میں اپنے فیصلے اپنے بنیادی عوامی حقوق کے حصول,ریاست جموں و کشمیر کی خوشحالی و خود مختاری اور ریاست کے ہر دو اطراف بسنے والے ڈیڑھ کروڑ سے زائد عوام کی مکمل آزادی ,خود مختاری و خوشحالی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کریں گے نہ کہ پاکستانی حکمرانوں کی کاسہ لیسی اختیار کرتے ہوئے اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔
ریاست جموں و کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد بسنے والے لوگوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے۔یہ اختیار ریاستی عوام کی اکثریت کو حاصل ہونا چاہیے کہ وہ ریاست کا الحاق پاکستان,ہندوستان یا خود مختار ریاست کے طور پر اپنی ایک جداگانہ اور الگ شناخت,حیثیت اور ریاست کی صورت میں کرنا چاہتے ہیں۔اس عام آدمی تحریک نے ایک واضح اور دو ٹوک پیغام پاکستانی حکمرانوں اور پالیسی ساز اداروں کو بھی دے دیا ہے کے ریاستی حکمرانوں اور منتخب ممبران قانون ساز اسمبلی کی اکثریت کو تو طاقت,دولت اور بلیک میلنگ سے خریدا جا سکتا ہے مگر ریاستی عوام تقسیم کشمیر سمیت آزاد جموں و کشمیر کو صوبہ بنانے اور عام آدمی کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے کیے جانے والے کسی بھی یک طرفہ فیصلے کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے اور پوری قوت,جرات اور طاقت کے ساتھ نہ صرف مزاحمت کریں گے بلکہ اس فیصلے اور پالیسی کو عوامی طاقت کی بنیاد پر ناکام بنا دیں گے۔
مجھے پوری امید ہے کے پاکستان اور ہندوستان کے حکمران اور پالیسی ساز ادارے ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں سمیت دو ارب سے زائد ہر دور اطراف بسنے والے لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی اور بہتری لانے کے لیے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں کردار ادا کریں گے۔اس سے جہاں ہر دو اطراف کی عوام کو غربت,افلاس اور بے روزگاری سے نجات حاصل ہوگی وہیں پر ڈیڑھ کروڑ سے زائد کشمیری عوام کی زندگیوں میں بھی خوشحالی آئے گی اور وہ بھی اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی زندگیاں امن و سکون اور اور عزت کے ساتھ گزار سکیں گے۔
جناب وزیراعظم ,چیف سیکرٹری اور آئی جی آزاد کشمیر ایک بات آپ کان کھول کر سن لیں ریاست جموں و کشمیر کی پوری تاریخ کھنگال کر دیکھ لیں۔جب جب ریاستی ارباب اقتدار و اختیار نے ریاستی دہشت گردی یا پولیس گردی کے ذریعے ریاستی عوام کو بزور طاقت روکنے کی کوشش کی تو اس کے سنگین اور بھیانک نتائج مرتب ہوئے۔یہ کوئی پاکستان نہیں کہ عوام ہر قسم کا ظلم و تشدد برداشت کرتے رہیں اور ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کریں۔جتنے مظالم گزشتہ اور موجودہ ادوار میں پاکستان کی مظلوم اور نہتی عوام پر ڈھائے جا چکے ہیں اس کا عشر عشیر بھی اگر ریاستی وہاں پر ڈھایا گیا ہوتا تو پاکستان کے اداروں سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عقل اور ہوش دونوں ٹھکانے آ چکے ہوتے۔یہ ریاست جموں و کشمیر اور پاکستان کی تاریخ کے منظم,پرامن اور آرگنائز دھرنے اور احتجاج تھے اور ہیں۔پرامن دھرنوں اور احتجاج پر کی گئی ریاستی و پولیس گردی کی ہم بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حکومت وقت کو خبردار کرتے ہیں کے اگر اس کے بعد ریاست نے طاقت اور جبر کے ذریعے لوگوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی تو نہ آپ کی یہ لولی لنگڑی حکومت بچے گی اور نہ ہی اشرافیہ کی عیاشیاں۔
میں اپنی تحریر کے اختتام پر تحریک میں شامل سبھی بزرگوں,خواتین,بچوں,نوجوانوں,سیاسی و مذہبی جماعتوں و مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران,سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ,سول سوسائٹی, طلبہ و طالبات,تاجران ,وکلا برادری,مزدوروں اور بالخصوص اسیران تحریک کو دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور بالخصوص اسیران کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کی لازوال قربانیوں اور قیدو بند کی صعوبتوں نے تحریک کو دوام بخشا ہے۔حکومتی و جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران کی طرف سے مطالبات کے حل کے لیے کابینہ کمیٹی و ذمہ داران کا انتخاب عمل میں آ چکا ہے۔جو ایک خوش ائند اقدام ہے۔مجھے یقین کامل اور امید واثق ہیکہ بامقصد مذاکرات کے بعد عوامی حقوق کی تحریک کے جائز مطالبات کی منظوری عمل میں لانے کے لیے حکومت کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرے گی۔اگر حکومتی ارباب اقتدار و اختیار نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست میں عوامی حقوق کے حصول کے لیے جاری تحریک کے مطالبات کے حل کو سنجیدگی سے نہ لیا تو مجھے خدشہ ہے کہ یہ عوامی حقوق کی تحریک سول نافرمانی کی تحریک کی شکل اختیار کر سکتی ہے اور ریاست سے اٹھنے والی سول نافرمانی کی تحریک پاکستان کا رخ کر سکتی ہے۔مذاکرات کی ناکامی اور سول نافرمانی کی تحریک کی صورت میں اس کے دور رس نقصانات کی نہ تو ریاست اور نہ ہی حکومت پاکستان اس کی متحمل ہو سکتی ہے۔لہذا ریاستی ارباب اقتدار و اختیار سمیت پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے اور اس عوامی حقوق کی تحریک کو سول نافرمانی کی تحریک کی شکل اختیار کرنے سے قبل اس کے حل کی طرف جانا ہوگا۔کہیں ایسا نہ ہو کے ریاست سے اٹھنے والی یہ عوامی بنیادی حقوق کی تحریک ارباب اقتدار و اختیار اور مراعات یافتہ طبقہ اور اشرافیہ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں