سردار تنویرالیاس نے کیا غلط کیا؟ ۔۔۔۔ عابد صدیق

آزادکشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو ایک ہفتہ قبل فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے حراست میں لیا ہے اور اس وقت وہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں ۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بحیثیت وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر جو ڈپلومیٹک پاسپورٹ حاصل کیا تھا ،وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی اسے استعمال کیا گیا۔ ایف آئی اے نے انہیں اس وقت حراست میں لیا جب وہ ایک خاندانی کاروباری تنازعہ پر درج ایف آئی آر پر اسلام آباد کے ایک مقامی تھانہ میں زیر حراست تھے اور عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔
سردار تنویرالیاس اپریل 2022 سے اپریل 2023 تک وزیراعظم آزادکشمیر رہے اور پاسپورٹ کی یہ سہولت اسی عرصے میں انہیں میسر رہی ہے۔پاکستانی قوانین کے مطابق آپ ایک وقت میں دو پاسپورٹ نہیں رکھ سکتے ہاں اگر آپ کے پاس دہری شہریت ہے تو پھر آپ دو ممالک کے پاسپورٹ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں ۔ سابق وزیراعظم سردار تنویرالیاس کا معاملہ ہی اور تھا ، وہ توہین عدالت کے ایک الزام میں عدالتی حکم سے اس منصب سے ہٹائے گے اور ابھی تک ان کی اپیل سپریم کورٹ آزادکشمیر میں زیر سماعت ہے۔ پھر وزارت خارجہ جو یہ پاسپورٹ جاری کرتی ہے اس کی جانب سے کبھی انہیں پاسپورٹ واپس جمع کروانے کے لیے رابطہ بھی نہیں کیا تو ایسے حالات میں کیا وہ بیرون ملک سفر ترک کر دیتے کہ ان کے پاس پہلے والا پاسپورٹ نہیں۔ ہاں اگر یہ کوئی خلاف قانون کام تھا تو اول تو یہ پہلا واقعہ نہیں، دوسرا ایف آئی اے اتنی گہری نظر رکھتی ہے تو وہ جب بیرون ملک جا رہے تھے تب کیوں نہیں انہیں روکا گیا یا پھر وطن واپسی پر تحویل میں لیا گیا؟صاف ظاہر ہے کہ اس سازش کے پیچھے کوئی عوامل تو ہیں ۔
ایک انگریزی روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں 50 سے زائد سابق وفاقی اور ریاستی وزراء نے پیپلز پارٹی کی حکومت کی مدت ختم ہونے پر دفاتر چھوڑنے کے باوجود اپنے سفارتی پاسپورٹ واپس نہیں کیے ۔ ان میں سابق وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ، وزیر اعظم کے سابق مشیر برائے داخلہ رحمان ملک اور سابق وزیر دفاع چوہدری احمد مختار شامل تھے۔اخبار نے وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے لکھا کہ وزارت خارجہ نے ان سابق وفاقی اور ریاستی وزراء کو ان کے سرخ سفارتی پاسپورٹ واپس کرنے کے لیے کوئی خط نہیں لکھا۔دفتر خارجہ کے مطابق عام طور پر سرخ سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے کسی بھی اہلکار کو ‘نوٹ وربل’ (ویزہ کے آسانی سے جاری کرنے کی درخواست) جاری کرتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ریڈ ڈپلومیٹک پاسپورٹ رکھنے والوں کو ’نوٹ وربل‘ کے اجرا کے بعد بھی متعلقہ سفارت خانے سے ویزا خود لینا پڑتا ہے۔ اس طرح یقینا وزارت خارجہ نے تنویرالیاس خو بھی خط جاری کیا ہو گا۔ وزارت خارجہ اتنی بے خبر کیوں تھی کہ اسے آزادکشمیر کے وزیر اعظم کے نام تک کا علم نہیں۔
جہاں تک سردار تنویرالیاس کا تعلق ہے وہ پنجاب حکومت میں بھی اعلی عہدے پر رہے۔ خاندانی تنازعات اپنی جگہ وہ پاکستان کے چند بڑی کاروباری شخصیات میں سے ایک ہیں۔ وہ کروڑوں روپے ٹیکس دیتے ہیں ، تو کیا ان کے لیے کسی بھی ملک کا ویزہ حتی کہ نیشنلسٹی لینا کیا مشکل کام ہے کہ انہوں نے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کا استعمال کر کے کوئی زیادہ عزت کما لی، ایئرپورٹ پر تو آپ کے پاس کریڈٹ کارڈ یو تب بھی وی آئی پی پروٹوکول مل جاتا ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ مملکت پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے۔ ریاست پولیس اسٹیٹ بنی ہوئی ہے ۔ اداروں میں کس کا حکم چلتا ہے کوئی پتہ نہیں، بس “جس کی لاٹھی اس کی بھینس ” کے مصداق ہر شہری غیر محفوظ ہے اور شنوائی کیسے ہو گی کوئی پتہ نہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں