منگل 15 جون 2021ء
منگل 15 جون 2021ء

محکمہ تعلیم میں بھرتیوں کے نام پر بڑا اسکنڈل بے نقاب

مظفرآباد(دھرتی نیوز)آزاد کشمیر میں آمدہ انتخابات سے قبل بعض وزراء کرام نے بیوروکریسی کے تعاون سے محکمہ تعلیم میں قریبی رشتے داروں کو بھرتی کرنے کا ایک منصوبہ بنایا ہے۔سیکرٹریٹ ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن نے 7 مئی 2021 کو ایک مکتوب نمبر 1(50)5 کے تحت جونئیر کلرکس گریڈ گیارہ کی 31 اور لیب اسسٹنٹ کی 2 آسامیاں مشتہر کرنے کی منظوری دی اور ناظم اعلیٰ تعلیم ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری  اییجوکیشن (مردانہ)کو مکتوب لکھا کہ وہ یہ آسامیاں مشتہر کریں۔یہ آسامیاں ضلع پونچھ کے لیے 8 مظفرآباد کے لیے 04 سدہنوتی کے لیے 17 اور میر پور کے لیے 02 مختص کی گئیں۔لیب اسسٹنٹ کی دو آسامیاں گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول کرنوٹہ اور گرلز ہائی اسکول غازی آباد کے لیے ایک ایک آسامی مختص کی گئی لیکن کمال چالاکی سے ان آسامیوں کو اوپن میرٹ کے تحت بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا۔ سیکرٹریٹ ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن نے 7 مئی 2021 کو ہی ایک مکتوب نمبر (50)5 کے تحت ان آسامیوں کو منسوخ کر دیا اور ناظم اعلیٰ تعلیم ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری  اییجوکیشن (مردانہ)  یہ آسامیاں مشتہر کرنے سے روک دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سات مئی کو ہی ان آسامیوں کی منظوری اور منسوخی  کے مکتوب تو جاری کیے گے لیکن سات مئی کو ہی مظفرآباد کے ایک لوکل اخبار میں اشتہار چھپوا کر اخبار کی ساری کاپیاں خرید لیں۔یہ اشتہار پی آئی ڈی کے ذریعے بھی نہیں بلکہ ڈائرکٹ شائع کروایا گیا جو ناظم اعلیٰ کی جانب سے تھا۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق جب ”مافیا“ کو اس بات کا علم ہوا کہ یہ آسامیاں اوپن میرٹ کے ذریعے پر کرنا مشکل کام ہے تو انہوں نے بعض آسامیوں کو ختم کر کے اور بعض کو اضلاع پر منقسم کر کے پی آئی ڈی کے ذریعے دو بڑے اخبارات میں اشتہار چھپوا دیئے جن میں سی ایک اشتہار میں پلندری کے لیے مختص آسامیاں اسی فیصد براہ راست کوٹہ جبکہ پونچھ کے لیے چار آسامیاں ختم کر کے صرف چار آسامیاں تحصیل عباسپور کے لیے مختص کر دیں۔ان کے لیے علیحدہ شرائط رکھی گئی ہیں۔دوسرے اشتہار میں مظفرآباد کے دو حلقوں کے لیے چار آسامیاں مختص کی گئیں جن پر بعد ازاں عدالت نے حکم امتناعی جاری کر دیا۔یہ ساری کارروائی بعض ممبران اسمبلی اور وزراء کرام اور بیوروکریسی نے مل کر آمدہ الیکشن سے قبل قریبی رشتے داروں کو بھرتی کرنے کے لیے کی اور قواعد سے ہٹ کر تمام کام عجلت میں کیا گیا جو ایک بڑا اسکنڈل ہے۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم