بدھ 04  اگست 2021ء
بدھ 04  اگست 2021ء

چیئرمین سینیٹ کا انتخاب: کیا جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ووٹ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں؟

پاکستان کی سیاست میں اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کا نیا چیئرمین کون ہوگا۔ اس وقت نئے چیئرمین کے انتخاب کے حوالے سے جوڑ توڑ کا سلسلہ عروج پر ہے۔

تاہم یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا پر جتنا بھی ہنگامہ برپا ہو، جماعتوں کو سینیٹ انتخابات میں سیاسی بیانیے، اخلاقیات اور اپنے ہی بنائے گئے زریں اصولوں سے بھی بعض دفعہ نظریں چرانی پڑ جاتی ہیں۔

سینیٹ چیئرمین کے لیے دو اتحادوں اور پارٹی پوزیشن پر نظر دوڑانے سے قبل یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ ایوان بالا کے ان انتخابات میں ناممکن بھی ممکن ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔ اس کی بڑی مثال تو خود اس وقت چیئرمین سینیٹ کے امیدوار یوسف رضا گیلانی اور صادق سنجرانی ہی ہیں، جو اس قدر پیچیدہ انتخابی مقابلے میں اپ سیٹ دینے کے حوالے سے اب ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔

یعنی یوسف رضا گیلانی 51 سے زیادہ بھی ووٹ لے سکتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خفیہ رائے شماری کے دوران ان ظاہری اکثریت بھی سمٹ جائے۔ ابھی تک یوسف رضا گیلانی کا یہی مؤقف میڈیا پر چلا ہے کہ ’بظاہر اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل نظر آ رہی ہے‘، جس پر کچھ اہم اپوزیشن رہنما خود حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

 

جب صادق سنجرانی پہلی بار آزاد حیثیت سے بلوچستان سے سینیٹ تک پہنچ گئے جس کے بعد وہ اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومت دونوں کی حمایت حاصل کر کے تین سال کے لیے چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے۔

سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود ان پر عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی، جو ناکام ہوئی۔ اپنی تین برس کی مدت پوری کرنے کے بعد وہ اب دوسری مدت کے لیے حکومتی اتحاد کی طرف سے سینیٹ چیئرمین کے امیدوار ہیں۔

اس بار فرق یہ ہے کہ ان کے مد مقابل پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار سیاستدان میدان میں موجود ہیں، جن کی وزارت عظمیٰ کے دوران حفیظ شیخ کی طرح صادق سنجرانی نے بھی ان کے ماتحت کام کیا۔

صادق سنجرانی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے وزیر داخلہ شیخ رشید کو یہ واضح کرنا پڑا کہ صادق سنجرانی نہ صرف حکومت کے امیدوار ہیں بلکہ وہ 'ریاست‘ کے بھی امیدوار ہیں تاہم انھوں نے لفظ ’ریاست‘ کی مزید وضاحت نہیں کی۔

اس وقت حکومتی ترجمان یہ دعوے کر رہے ہیں کہ انھیں اکثریت کی حمایت حاصل ہو چکی ہے لیکن ان دعوؤں سے قبل اس وقت سینیٹ میں چھوٹی جماعتوں کی غیر معمولی اہمیت کا جائزہ لیتے ہیں۔

اپوزیشن اراکین کی کم تعداد کے باوجود یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست دے کر سینیٹر بننے میں کامیاب ہوئے اور اب وہ چیئرمین سینیٹ کی دوڑ میں بھی بہتر پوزیشن میں نظر آتے ہیں۔ اس وقت اپوزیشن کو چیئرمین سینیٹ منتخب کروانے کے لیے بظاہر 51 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے مگر یہ ووٹنگ خفیہ رائے شماری سے ہوگی اور اس میں نتائج کا گراف غیر متوقع طور پر بدل بھی جاتا ہے۔

 

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم